جامعہ اسلامیہ بہٹکل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جامعہ اسلامیہ بہٹکل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 18 جولائی، 2018

جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے متعلق بانی جامعہ حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا خط

*بانی جامعہ حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی آج سے پچاس سال پہلے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے سلسلہ میں کی گئی اپیل*

*محترم جامعہ نواز*

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*ہندوستان میں متعدد مذاھب کے ماننے والے رہتے ہیں، دستور ھند میں مختلف مذاہب اور ان کی ترقی کے لئے موقع فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ   مذھبی امور میں حکومت غیر جانب دار رہے گی*

*مگر عمل درآمد اس کے برعکس ہو رہا ہے، ھندوستان کے کار فرما دماغ وطن پرستی کے نام پر ھندو مذہب کے خیالات وعقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے برسراقتدار طبقہ نے ایک خاص نظام تعلیم مرتب کیا ہے، جس کے پیش نظر مسلمانوں کی آئندہ نسلیں اسلامی عقیدے پر قائم اور اسلامی روایات کی حامل نہ رہ سکیں گی، لہذا اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنا وقت اپنا پیسہ فکر و محنت ہر ممکن حد تک اپنی آئندہ نسلوں کے ایمان کی بقا اور حفاظت کے لئے لگادیں*

*اسی جذبہ خالص کے تحت جامعہ اسلامیہ بھٹکل نے چند مخلص دردمندوں کی جدوجہد سے جنم لیا اور گذشتہ 6 سال سے برابر مقدور بھر کوشش کر رہا ہے، اس کی حسن کارکردگی کو دیکھنے کا موقع آپ کو ہوگیا ہے، نیز علوم دین کے مراکز کے مقتدر علماء نے بھی ہماری اس کوشش کو قدردانی کی نگاہ سے دیکھا ہے، اب اسے ایک اقامتی درس گاہ کی شکل دینا ہے جس کے لئے ایک موزوں عمارت کی ضرورت ہے، قوم کے مخیر حضرات کی توجہ اور بروقت امداد سے یہ ادارہ جلد اپنے تعمیری مراحل طے کرتا ہوا اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے گا، لہذا آنجناب سے التماس ہے کہ اس دارالعلوم کے تعمیری پروگرام میں پوری دلچسپی سے حصہ لیکر اسلام کی بقا واشاعت کے لئے قوم کا ہاتھ بٹائیں*

*وما توفیقی الا باللہ*

*خادم قوم*

*سکریٹری جامعہ اسلامیہ بھٹکل*


جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے متعلق بانی جامعہ کا ایک خط

*بانی جامعہ حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب نور اللہ مرقدہ کا 1968 عیسوی میں جامعہ کو عظیم دارالعلوم بنانے کے عزم کے ساتھ اپنے دوستوں کو لکھا گیا خط*

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*مکرمی ومحبی..........*

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*مسلمانوں پر ان کے عقیدے اور ایمان کی رو سے یہ اہم اور مقدس ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو مسلمان باقی رکھیں، اس ذمہ داری کو پورا کرنا مسلمانوں کے لئے اپنی عزت وناموس کی حفاظت سے بھی بڑھ کر ہے، مسلمان سب کچھ کھو کر ایمان ویقین کا حامل رہے تو کامیاب ہے لیکن اگر وہ ایمان ویقین کی نعمت سے محروم ہو کر اسے دنیا کا بڑے سے بڑا بھی منصب مل جائے تو وہ ناکامیاب ہے*

*مروجہ سرکاری نصاب تعلیم مختلف پہلوں سے ہمارے بچوں کے خام ذہنوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اور ان کے ذہن ودماغ اور مذہبی رحجانات کا رخ کس طرح موڑا جا رہا ہے اس کا اندازہ ہر پڑھے لکھے شخص کو ہے*

*اگر ہم نے اس کا ابھی سے مقابلہ نہیں کیا اور اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھی تو خدانخواستہ ہماری آنے والی نسل مذہب اسلام سے بیگانہ ہوجائے گی، لہذا اسی خطرے کے پیش نظر ہندوستان کے مختلف حصوں میں نکتہ فہم اور دینی تڑپ رکھنے والے مخلصوں نے اپنے نجی تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں جن میں علوم دین کے علاوہ علوم عصریہ بھی پڑھائے جاتے ہیں*

*جامعہ اسلامیہ بھٹکل بھی اسی مقصد کے تحت 1962 عیسوی میں عالم وجود میں آیا اور بفضل تعالی اپنے مقصد میں روز افزوں کامیابی کے مراحل طے کر رہا ہے، ابھی اس کے عزائم بلند ہیں اب اسے ایک اقامتی درسگاہ میں تبدیل کرنا ہے جس کےلئے ایک موزوں عمارت کی ضرورت ہے جو ایک کامل دارالعلوم کہلاسکے*

*لہذا اگر آپ پہلے ہی سے اس کارخیر میں حصہ لئے ہوں تو اب آپ کی زمہ داری اور بڑھ جاتی ہے تاکہ تعمیری پروگرام میں مزید کشادہ دلی سے کام لیں، اگر ابھی تک آپ نے توجہ نہیں فرمائی تو آنجناب کی خدمت میں مؤدبانہ التماس ہے کہ اس آنے والے برکتوں والے اور مبارک مہینہ میں محض اللہ کے دین کی بقا واشاعت کےلئے اس دینی ادارے کے تعمیری پروگرام میں دل کھول کر اعانت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں*

*ملتجی*

*دستخط حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب*

*سکریٹری(ناظم) جامعہ اسلامیہ بھٹکل*


ہفتہ، 13 جنوری، 2018

جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے قیام میں مصلح قوم حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا کردار

جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے قیام میں مصلح قوم حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب نوراللہ مرقدہ کا کردار
بقلم حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بھٹکلی مدظلہ (بانی وناظم ادارہ رضیۃ الابرار بھٹکل، وسابق مہتمم ونائب ناظم جامعہ اسلامیہ بھٹکل)

بدھ، 6 ستمبر، 2017

جامعہ اسلامیہ بہٹکل کا اولین دفتر بانی جامعہ حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب رحمۃ اللہ کا دوا خانہ ہے


🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

جامعہ اسلامیہ بہٹکل کا اولین دفتر

جامعہ اسلامیہ بہٹکل کا اولین دفتر بانی جامعہ حضرت الحاج ڈاکٹر علی ملپا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا دوا خانہ ہے. 1954 عیسوی میں جب حضرت ڈاکٹر صاحب مستقل طور پر بہٹکل قیام فرمایا تو 1954 عیسوی ہی میں ذریعہ معاش کے لئے ہوموپتہیک دوا خانہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا. یکم شعبان 1373 ہجری مطابق 5 اپریل 1954 عیسوی بروز پیر کو تکیہ محلہ بہٹکل میں شفیع ہوموپتہیک دواخانہ کا افتتاح ہوا. اس دوا خانہ میں جسمانی وروحانی دونوں طرح کا علاج ہوا کرتا تہا. یہ دوا خانہ ایک دارالمشورہ بہی تہا. مختلف طبقہ کے لوگ روزانہ یہاں آیا کرتے تہے. قوم کے بہت سے مسائل پر یہاں گفتگو ہوتی تہی. یہاں کے طے شدہ تجاویز اور مشورہ قومی اداروں میں اثر انداز ہوتے تہے. جامعہ اسلامیہ بہٹکل کا قیام انہی مشوروں کا نتیجہ ہے. قیام جامعہ کے وقت اکثر مشورہ اسی دوا خانہ میں ہوا کرتے تہے اور عرصہ تک جامعہ کا دفتر بہی یہیں رہا.

تفصیل کے لئے تذکرہ والد تالیف حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی مدظلہ کی کتاب کا مطالعہ کریں

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *تاریخ جامعہ چینل* 🌴🌴

چینل میں جوین ہونے کے لئے ٹیلی گرام ڈنلوڈ کرین اور تلاش کریں:

Tareekh-e-jamia

لٹیلگرام لنک یہ ہے:

https://telegram.me/tareekhejamia

پیر، 14 اگست، 2017

جامعہ اسلامیہ بہٹکل

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

*جامعہ اسلامیہ بہٹکل*

مورخ بہٹکل، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد شفیع جامعی قاسمی مدظلہ (ناظم ادارہ رضیة الابرار بہٹکل، وسابق مہتمم ونائب ناظم جامعہ اسلامیہ بہٹکل) لکہتے ہیں

پہلی صدی ہجری سے اب تک بہٹکل میں دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا. ہر دور میں علماء اور ذمہ داران قوم نے تعلیم کے مراکز قائم کئے. 1342 عیسوی میں ابن بطوطہ یہاں تیرہ اور تیئس مدرسوں کا تذکرہ کرتا ہے. دنیا کی ہر چیز کو زوال ہے. مرور زمانہ اور اس وقت کے اشخاص کے جانے کے بعد ان اداروں اور مراکز کو بہی زوال آتا گیا. 1919 عیسوی میں دینی تعلیم کی غرض سے ایک خالص دینی مدرسہ بنام *مدرسہ اسلامیہ بہٹکل* قائم کیا گیا تہا. اس وقت انجمن حامی مسلمین کے نام سے ایک ادارہ بہی موجود تہا. جس کے تحت ایک اسکول قائم کیا گیا تہا، جس میں دنیوی تعلیم کے ساتہ اسلامی تعلیم کا بہی اہتمام کیا گیا تہا. جس کا قوم پر اچہا اثر قائم ہوا. عصری ودینی علوم سے اراستہ افراد انجمن سے پیدا ہوئے. حکومت سے گرانٹ کے حصول کے بعد حکومتی نصاب کا اثر زیادہ ہوگیا اور اسلامی رنگ مغلوب ہونے لگا اور قوم میں جماعتی اختلاف بہی پیدا ہوا تو اس وقت قوم کے بعض درد مندوں کو فکر ہوئی کہ بہٹکل میں خالص دینی مدرسہ ہونا چاہئے. اس کے لئے محنتیں اور فکریں ہونے لگیں. بالآخر 1962 عیسوی میں جامعہ اسلامیہ بہٹکل کے نام سے ایک خالص دینی مدرسہ قائم کیا گیا. جس سے قوم میں اسلامی تعلیمات عام ہوئیں، بہت سے حفاظ قرآن اور عالم دین پیدا ہوئے. جامعہ کا تخیل محترم ڈاکٹر علی بن شہاب الدین صاحب ملپا مدظلہ نے پیش کیا. اس کو قائم کرنے اور اس کو ترقی دینے میں محترم ڈاکٹرعلی بن شہاب الدین صاحب ملپا مدظلہ کے ساتہ محترم سعدا محمد جفری بن محمد اسماعیل صاحب مرحوم، و محترم دامدا ابو (D. A) اسماعیل بن حسین مرحوم، ومحترم دامدا ابو (D. A) ابوبکر بن حسن صاحب، و محترم محی الدین بن محمد امین صاحب منیری مرحوم، و محترم ارمار (بدلی) زین العابدین صاحب مرحوم، و محترم عثمان حسن جوباپو مرحوم، و محترم قاضیا مولی صاحب مرحوم، ومحترم شاہ بندری (امریکن) محسن بن حاجی حسن وغیرہم کا نمایاں کردار رہا ہے. اس کا افتتاح 20 اگست 1962 عیسوی کو مبلغ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا ارشاد احمد صاحب قاسمی رحمة الله عليه(خلیفہ مجاز مصلح الامت حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتحپوری) کے ہاتہوں عمل میں آیا اور اس کے پہلے استاد(معتمد تعلیمات) حضرت مولانا عبد الحمید ندوی رحمة الله علیہ (ساکن اترپردیش) مقرر ہوئے. اولین طالب علم عبد اللہ بن محمد کوبٹے، دوسرا طالب علم نذیر احمد بن علی اکبر سعدا اور تیسرا طالب علم راقم محمد شفیع قاسمی بن ڈاکٹر علی ملپا تہے اور ابتداء میں تعلیم حاصل کر کے پہلی مرتبہ عالم بننے والے مولانا ملا اقبال بن حسین صاحب و مولانا غزالی بن قاضی ابوبکر صاحب خطیبی و مولانا محمد صادق بن عبد القادر باشاہ صاحب اکرمی تہے. جامعہ کا پورے علاقہ پر بہت گہرا اثر قائم ہوا. بہٹکل و اطراف بہٹکل کی اکثر مساجد کے ائمہ و خطیب و قاضی صاحبان جامعہ اسلامیہ بہٹکل کے تعلیم یافتہ ہیں. جامعہ کے تحت مکاتیب و ملحقہ مدارس چل رہے ہیں.

(تاریخ بہٹکل پر ایک نظر، ص 82، 83)

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/08/blog-post_14.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *تاريخ جامعہ چینل* 🌴🌴

جامعہ سلامیہ بہٹکل کی تاریخ جاننے کے لئے تاریخ جامعہ چینل میں جوین ہوجائیں.
جوین ہونے کے لئے پہلے ٹیلی گرام ڈنلوڈ کرین پہر اس لنک پر کلک کریں.

https://telegram.me/tareekhejamia

بدھ، 5 جولائی، 2017

تاسیس جامعہ اسلامیہ بہٹکل

تاسیس جامعہ اسلامیہ بہٹکل
از: حضرت مولانا محمد شفیع جامعی قاسمی دامت برکاتہم(سابق مہتمم ونائب ناظم جامعہ اسلامیہ بہٹکل، کرناٹک، ہند)