روزہ وتراویح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
روزہ وتراویح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمعرات، 28 جون، 2018
ہفتہ، 2 جون، 2018
تراویح بیس رکعات ہی سنت ہے
تراویح بیس رکعات ہی سنت ہے
چند دن قبل آٹھ رکعات نماز تراویح ہی سنت ہے کے عنوان سے ایک مضمون نظر سے گذرا، پورا مضمون جھوٹ کا پلندہ نظر آیا، جس میں علماء دیوبند پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا کہ وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل ہیں، لعنة الله على الكاذبين
علماء احناف اور علماء دیوبند بیس رکعات تراویح ہی کو سنت سمجھتے ہیں اور بیس رکعات ہی پڑھتے ہیں، کسی کی ادھوری عبارت سیاق وسباق سے ہٹاکر پیش کرنے سے جاھل عوام کو خوش کر سکتے ہیں مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے. اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے، آمین
دیوبند سے سب سے بڑے عالم دارالعلوم دیوبند کے سرپرست حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
پس یہ سنت عشرین رکعۃ بھی ایسی ہی ہے کہ اس کی اصل سنت رسول اللہ میں موجود ہے، اسی واسطہ تمام صحابہ نے اس وقت میں اس کو قبول کیا اور عامل رہے اور کسی وقت کسی ایک نے بھی صحابہ میں سے اس پر انکار نہ کیا نہ اس کو مخالفت سنت رسول اللہ سمجھا. (فتاوی رشیدیہ، ص386)
دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے طالب علم استاذ الاساتذہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
لما اجتمع كبار الصحابة والخلفاء الراشدون على عشرين ركعة فاى دليل اقوى على ذلك لانهم عالمين باقواله عليه السلام وافعاله، فلما تركوا جميع ما سوى عشرين ركعة فعلم انه ظهر دليل اقوى على ثبوت عشرين ركعة، واما قول من ذهب من اهل الحديث الى ثمانى ركعات فلا اصل له فى الحديث بل نشاء من قلة الفهم وعدم التدبر فى الفرق بين الصلاة تراويح والتهجد وبينهما بون بعيد فان عائشة رضى الله عنها تقول ما قام عليه السلام للتهجد ليلة كلها، وفى باب التراويح قام الى ان خيف الفلاح. (تقریر ترمذی شیخ الہند)
دارالعلوم دیوبند کے اولین صدر مفتی حضرت مفتی عزیر الرحمن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
گیارہ رکعات جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی حدیث میں آئی ہے وہ تہجد اور وتر کی نماز ہے جیسا غیر رمضان کا لفظ اس کا قرینہ صاف موجود ہے کیونکہ غیر رمضان میں تراویح نہیں ہوتی، تراویح بیس رکعات ہیں اور اجماع صحابہ اس پر ہے. (فتاوی دارالعلوم دیوبند)
دارالعلوم دہوبند کے سابق سرپرست حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
بیس رکعات کے سنت موکدہ ہونے پر اجماع منعقد ہو چکا ہے اور اجماع کی مخالفت ناجائز ہے اور یہ اجماع علامت ہے ان احادیث کے منسوخ ہونے کی اور اگر اجماع میں شبہ ہے کہ بعض علماء نے صرف آٹھ کو سنت موکدہ لکھا ہے تو جواب یہ ہے کہ اجماع اس قول سے پہلے منعقد ہے، پس اس کے مقابلہ میں شاذ قول قابل اعتبار نہیں ہوگا. (اشرف الجواب، حصہ دوم، ص160)
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
واما من اكتفى بالركعات الثمانية، وشذ عن السواد الاعظم، وجعل يرميهم بالبدعة، فالير عاقبته، والله تعالى اعلم. (فيض البارى)
مفتی اعظم پاکستان وسابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
رمضان المبارک میں عشاء کے فرض اور سنت کے بعد بیس رکعات سنت موکدہ ہے. (ماہنامہ دارالعلوم دیوبند شوال 1432 ہجری)
بیس رکعات تراویح کے سنت ہونے پر اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے، صحابہ سے لے کر آج تک اہل سنت والجماعت یعنی حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کی مساجد میں بیس رکعات تراویح باجماعت ادا کی جاتی ہے، اہل روافض اور غیر مقلدین اس کے منکر ہیں، اللہ تعالی ہم سب کو بیس رکعات تراویح باجماعت پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
باقی آئندہ
https://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com/2018/06/blog-post.html?m=1
جمعہ، 4 مئی، 2018
بدھ، 2 مئی، 2018
تراویح اور ہم مسلمان قسط 1
🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃
*(تراویح اور ہم مسلمان*(قسط 1
از: حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی
رمضان المبارک کا مہینہ سال میں ایک بار آتا ہے، اس کی بڑی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں، اس مہینہ میں انسانیت کا دستور العمل قرآن مجید نازل ہوا، گناہوں کی معافی کا مہینہ ہے، نیک عمل کے ثواب میں اضافہ کیا جاتا ہے، اگر کوئی مسلمان اس مہینہ میں بہی اپنی بخشش کی کوشش نہ کریں تو اس سے بڑا محروم اور بد نصیب کوئی نہیں ہو سکتا، روزہ اور تراویح اس مہینہ کی خاص عبادت ہیں، روزہ فرض ہے اور تراویح سنت ہے، روزہ پوشیدہ عمل ہے، روزہ رکہا یا نہ رکہا یا کس طرح رکہا، سب کو معلوم نہیں ہوسکتا، مگر تراویح ظاہری عمل ہے، تراویح پڑہنے یا نہ پڑہنے کا علم پورے محلہ والوں کو ہو جاتا ہے، افسوس کہ تراویح کے ساتہ ہم مسلمانوں کا سلوک بہت ہی برا ہے، کچہ لوگ تراویح کا انکار ہی کرتے ہیں، کوئی الگ نماز نہیں سمجہتے، کچہ لوگ تراویح کو نفل کہہ کر اس کو حقیر سمجہتے ہیں، عشاء کی نماز میں مسجدیں بہری رہتی ہیں، عشاء کی نماز کے بعد کچہ لوگ نکل جاتے ہیں، جب تراویح شروع ہوتی ہے تو چار رکعات کے بعد کچہ لوگ نکل جاتے ہیں، پہر آٹہ رکعات کے بعد ایک بڑی جماعت نکل جاتی ہے، اور اس کو کار ثواب سمجہتی ہے، حفاظ کرام اپنی خوبصورت آواز سے قرآن مجید سناتے ہیں، مگر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد گہر روانہ ہو چکی ہوتی ہیں، بیس رکعات تراویح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ ہی سے باجماعت پڑہی جاتی ہے، اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شجص ایمان کے ساتہ اور ثواب کی امید میں تراویح پڑہے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں، بیس رکعات تراویح صحابہ، تابعین، تبع تابعین، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد ابن حنبل اور جمہور علماء و فقہاء کا عمل رہا ہے. آٹہ رکعات پڑہ کرچلے جانے والوں کے متعلق ایک سوال کے جواب میں سعودی عالم شیخ محمد بن صالح عثیمین لکہتے ہیں
سوال: اذا صلى الانسان خلف امام يزيد على احدى عشرة ركعة، فهل يوافق الامام ام ينصرف اذا اتم احدى عشرة؟
جواب: السنة ان يوافق الامام، لانه اذا انصرف قبل تمام الامام لم يحصل له اجر قيام الليل. والرسول صلى الله عليه وسلم، قال من قام مع الامام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة.
(48 سؤالا فى الصيام، ص 19)
ترجمہ:
سوال: جب کوئی بیس رکعات تراویح پڑہنے والے امام کے پیچہے تراویح پڑہے تو وہ گیارہ رکعات پڑہ کر جائے یا بیس رکعات پوری کرے؟
جواب: سنت یہ ہے کہ امام کی موافقت کرے یعنی بیس رکعات پڑہے اسلئے کہ امام کی نماز پوری ہونے سے پہلے جائے گا تو اس کو پوری تراویح کا ثواب نہیں ملے گا، اسلئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو آخر تک امام کے ساتہ تراویح پڑہے گا، اس کو پوری رات تراویح پڑہنے کا ثواب ملےگالہذا جمیع مسلمانوں سے پرخلوص درخواست ہے کہ اس مہینہ کو غنیمت سمجہ کر بیس رکعات تراویح پڑہ کر ہی جائیں. انشاء اللہ بیس رکعات فرض نماز پڑہنے کا ثواب ملے گا، اتنی بابرکت اور ثواب والی نماز اور تلاوت قرآن پاک کو چہوڑ کر گہر یا بازار جانا اللہ کو راضی کرنے والا عمل نہیں ہو سکتا، مریض اور معذور کے لئے گنجائش ہوسکتی ہے
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
اہل السنة والجماعة کے عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی
ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
https://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.comمنگل، 1 مئی، 2018
ہفتہ، 28 اپریل، 2018
پیر، 23 اپریل، 2018
اتوار، 22 اپریل، 2018
ہفتہ، 21 اپریل، 2018
منگل، 17 اپریل، 2018
اتوار، 18 جون، 2017
تراویح کی نماز مرد وعورت دونوں کے لئے سنت ہے
🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃
تراویح کی نماز مرد اور عورت دونوں کے لئے سنت ہیں
حدیث1)عن عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله تبارك وتعالى فرض صيام رمضان عليكم وسننت لكم قيامه فمن صامه وقامه ايمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه.
(سنن نسائی قال المناوی اسنادہ حسن)
ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تبارک وتعالی نے تم پر رمضان المبارک کے روزہ کو فرض کیا ہے اور میں نے رمضان المبارک کے قیام یعنی تراویح کو سنت قرار دیا ہے. جو شخص صدق دل اور ثواب کی امید میں رمضان کے روزہ رکہے اور رات کا قیام یعنی تراویح پڑہے تو اس کےتمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ وہ ابہی پیدا ہوا.
اس حدیث عام ہے مرد وعورت دونوں پر روزہ فرض ہیں اور تراویح سنت ہیں.
حديث2) حديث ابوذر ميں ودعا اهله ونساء ه کا لفظ ہے.
(ترمذی وقال هذا حديث حسن صحيح)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک رات عورتوں کو بہی جماعت میں شامل کیا گیا.
حديث3) عن عائشة ام المؤمنين رضى الله عنهما كانت تؤم النساء فى شهر رمضان فتقوم وسطا.
(الآثار لمحمد بن الحسن)
اس حدیث سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کا عورتوں کی امامت کرنا معلوم ہوتا ہے. عورتوں کے لئے افضل ترین نماز گہر میں ہے. اسلئے کوئی حافظہ گہر میں تراویح پڑہائے تو جماعت سے تراویح ادا کرے ورنہ انفرادی تراویح ادا کریں اسلئے کہ عورتوں کے لئے پسندیدہ نماز اپنے گہر کی اندرونی کمرہ میں ہے.
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/06/blog-post_76.html?m=1
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
غیر مقلدین کے اشکالات کے جوابات، اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
تراویح کی نماز مرد اور عورت دونوں کے لئے سنت ہیں
حدیث1)عن عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله تبارك وتعالى فرض صيام رمضان عليكم وسننت لكم قيامه فمن صامه وقامه ايمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه.
(سنن نسائی قال المناوی اسنادہ حسن)
ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تبارک وتعالی نے تم پر رمضان المبارک کے روزہ کو فرض کیا ہے اور میں نے رمضان المبارک کے قیام یعنی تراویح کو سنت قرار دیا ہے. جو شخص صدق دل اور ثواب کی امید میں رمضان کے روزہ رکہے اور رات کا قیام یعنی تراویح پڑہے تو اس کےتمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ وہ ابہی پیدا ہوا.
اس حدیث عام ہے مرد وعورت دونوں پر روزہ فرض ہیں اور تراویح سنت ہیں.
حديث2) حديث ابوذر ميں ودعا اهله ونساء ه کا لفظ ہے.
(ترمذی وقال هذا حديث حسن صحيح)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک رات عورتوں کو بہی جماعت میں شامل کیا گیا.
حديث3) عن عائشة ام المؤمنين رضى الله عنهما كانت تؤم النساء فى شهر رمضان فتقوم وسطا.
(الآثار لمحمد بن الحسن)
اس حدیث سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کا عورتوں کی امامت کرنا معلوم ہوتا ہے. عورتوں کے لئے افضل ترین نماز گہر میں ہے. اسلئے کوئی حافظہ گہر میں تراویح پڑہائے تو جماعت سے تراویح ادا کرے ورنہ انفرادی تراویح ادا کریں اسلئے کہ عورتوں کے لئے پسندیدہ نماز اپنے گہر کی اندرونی کمرہ میں ہے.
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/06/blog-post_76.html?m=1
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
غیر مقلدین کے اشکالات کے جوابات، اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
افطار کے وقت یہ دعا پڑہنا سنت ہے
🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃
افطار کی دعا
(اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت)
افطار کے وقت یہ پڑہنا بہت سے علماء نے سنت اور مستحب لکہا ہے
امام ابواسحاق شیرازی (متوفی 476 ہجری) لکہتے ہیں:
ویستحب ان یدعو علی الافطار بدعاء رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت.
(التنبيه فى الفقه الشافعى)
امام محمد غزالی رحمة الله عليه (متوفی 505 ہجری) لکہتے ہیں:
تعجیل الفطر بعد تيقن الغروب بتمر او ماء مستحب ويقول عند ذلك اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت.
(الوسيط)
علامہ یحیی نووی رحمة الله عليه (متوفی 676 ہجری) لکہتے ہیں:
والسنة ان يقول عند فطره اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت.
(روضة الطالبيين)
علامہ عبد الرحمن الصفوری (متوفی894 ہجری) لکہتے ہیں:
يسن ان يقول عند الفطر اللهم لك صمت وعلى رزك افطرت.
(نزهة المجالس)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
غیر مقلدین کے اشکالات کے جوابات، اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
ہفتہ، 17 جون، 2017
افطار کے وقت پڑہنے کی دعائیں
🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃
*افطار کے وقت کی دعائیں*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا پڑہتے تہے
*"اللہم لک صمت وعلی رزقک افطرت."*
(سنن ابی داود عن معاذ بن زہرة، اسنادہ مرسل حسن، مصنف ابن ابى شيبة عن ابى هريره رضى الله عنه)
بعض حديثوں میں ان الفاظ کے ساتہ یہ دعا ہے
*"اللہم لک صمت وعلیک توکلت، وعلی رزقک افطرت"*
مسند حارث، المطالب العالیة
الدعاء للطبرانى میں ان الفاظ کے ساتہ دعا موجود ہے
*"بسم اللہ اللہم لک صمت وعلی رزقک افطرت تقبل منی انک انت السمیع العلیم"*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا بہی پڑہتے تہے
*"ذهب الظما وابتلت العروق وثبت الاجر ان شاء اللہ "*
الدعوات الکبیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ دعا منقول ہے
*"یا واسع المغفرة اغفرلى"*
المستدرک کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا منقول ہے
*"اللهم انى اسالك برحمتك التى وسعت كل شيء ان تغفرلى ذنبى"*
کسی دوسرے کے گہر میں روزہ افطار کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑہتے
*"افطر عندکم الصائمون واکل طعامکم الابرار وصلت علیکم الملائکة"*
عمل الیوم واللیلة لابن السنى میں یہ دعا موجود ہے
افطار کا وقت دعا کی قبولیت کا وقت ہے جیسا کہ شعب الایمان بیہقی کی حدیث میں موجود ہے اسلئے افطار کے وقت خاص کر کے دعا کا اہتمام کرے. جو الفاظ حدیث میں ہے ان الفاظ سے دعا مانگیں اور اس کے علاوہ بہی دوسرے الفاظ سے دعا مانگ سکتے ہیں. بندہ کو بہی اپنی خاص دعا میں یاد رکہیں.
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
غیر مقلدین کے اشکالات کے جوابات، اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
*افطار کے وقت کی دعائیں*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا پڑہتے تہے
*"اللہم لک صمت وعلی رزقک افطرت."*
(سنن ابی داود عن معاذ بن زہرة، اسنادہ مرسل حسن، مصنف ابن ابى شيبة عن ابى هريره رضى الله عنه)
بعض حديثوں میں ان الفاظ کے ساتہ یہ دعا ہے
*"اللہم لک صمت وعلیک توکلت، وعلی رزقک افطرت"*
مسند حارث، المطالب العالیة
الدعاء للطبرانى میں ان الفاظ کے ساتہ دعا موجود ہے
*"بسم اللہ اللہم لک صمت وعلی رزقک افطرت تقبل منی انک انت السمیع العلیم"*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا بہی پڑہتے تہے
*"ذهب الظما وابتلت العروق وثبت الاجر ان شاء اللہ "*
الدعوات الکبیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ دعا منقول ہے
*"یا واسع المغفرة اغفرلى"*
المستدرک کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا منقول ہے
*"اللهم انى اسالك برحمتك التى وسعت كل شيء ان تغفرلى ذنبى"*
کسی دوسرے کے گہر میں روزہ افطار کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑہتے
*"افطر عندکم الصائمون واکل طعامکم الابرار وصلت علیکم الملائکة"*
عمل الیوم واللیلة لابن السنى میں یہ دعا موجود ہے
افطار کا وقت دعا کی قبولیت کا وقت ہے جیسا کہ شعب الایمان بیہقی کی حدیث میں موجود ہے اسلئے افطار کے وقت خاص کر کے دعا کا اہتمام کرے. جو الفاظ حدیث میں ہے ان الفاظ سے دعا مانگیں اور اس کے علاوہ بہی دوسرے الفاظ سے دعا مانگ سکتے ہیں. بندہ کو بہی اپنی خاص دعا میں یاد رکہیں.
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
غیر مقلدین کے اشکالات کے جوابات، اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رات میں گیارہ رکعات سے زیادہ نماز پڑہنا بہی ثابت ہے
🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رات میں '' گیارہ رکعات`` سے زیادہ نماز پڑہنا بہی ثابت ہے*
===========================
چند روز قبل ایک مضمون📝 نظر سے گذرا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا "گیارہ رکعات" تراویح وتہجد کا ذکر کر کے باقی تمام احادیث کا انکار کیا گیا تہا.
ہم اہل السنة والجماعة اہل حق حتی الامکان تمام احادیث میں تطبیق دینے کی کوشش کرتے ہیں.
اور اہل باطل کسی ایک اپنی پسند کی حدیث کو لے کر باقی احادیث کا انکار کرتے ہیں.
ذیل میں گیارہ رکعات سے زیادہ نماز پڑہنے کی احادیث نقل کرتے ہیں. جس سے معلوم ہوگا کہ غیر مقلدین کا موقف باطل ہے.
حدیث 1)💎 عن عائشة رضى الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلى بالليل ثلاث عشرة ركعة، ثم يصلى اذا سمع النداء بالصبح ركعتين خفيفتين.
(صحیح بخاری، کتاب التہجد)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ 13 رکعات پڑہتے تہے، پہر آذان کے بعد دو رکعات مختصرا سنت فجر ادا فرماتے.
غیر مقلدین تراویح وتہجد کو ایک نماز مانتے ہیں. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں گیارہ رکعات سے زیادہ نماز تہجد پڑہتے تہے. غیر مقلدین کا گیارہ رکعات ہی تراویح وتہجد پڑہنے کا مسلک غلط ثابت ہوا.
حدیث 2) 💎عن ابن عباس .....ثم صلی رکعتین، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين ثم اوتر، ثم اضطجع حتى جاءه المؤذن فقام فصلى ركعتين فقام فصلى ركعتين، ثم خرج فصلى الصبح. (صحيح بخارى)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ عباس رضی اللہ عنما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں آپ دو دو رکعات چھ 6 مرتبہ پڑھ کر وتر ادا فرمائی پہر سنت فجر ادا فرماکر دو رکعات نماز فجر پڑہائی.
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر اور سنت فجر کے علاوہ بارہ رکعات تہجد ادا فرماتے تہے.
اس حدیث سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رات میں 12 رکعات اور نماز وتر پڑہنا ثابت ہوتا ہے اور گیارہ رکعات سے زیادہ تراویح وتہجد نہ پڑہنے کا دعوی باطل ثابت ہوتاہے. اسلئے کہ ان کے نزدیک دونوں نماز ایک ہے.
حدیث 3)💎 عن عاصم بن ضمرة قال سئل على رضى الله عنه عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان يصلى من الليل ست عشرة ركعة. (مسند احمد اسناده صحيح)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں سولہ 16 رکعات نماز پڑہتے تہے.
اس سے وتر کے علاوہ سولہ 16 رکعات پڑہنا ثابت ہوا اور گیارہ رکعات سے زیادہ تراویح یا تہجد نہ پڑہنے کا دعوی غلط ثابت ہوا.
حدیث 4)💎 عن طاوس قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلى سبع عشرة ركعة من الليل. (الزهد لابن المبارك، مصنف عبد الرزاق، اسناده مرسل صحيح، رجاله رجال الشيخين)
ترجمہ: حضرت طاوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں سترہ 17 رکعات نماز پڑہتے تہے.
اس حدیث سے بہی گیارہ رکعات سے زیادہ نماز پڑہنا ثابت ہوا اور سلفیوں کا گیارہ رکعات سے زیادہ پڑہنے کو خلاف سنت کہنا،باطل ثابت ہوا.
حدیث 5)💎 عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان النبى صلى الله عليه وسلم خرج ليلة فى رمضان فصلى بالناس اربعة وعشرين ركعة. (مخطوطات ابى طاهر اصبهانى، اسناده حسن)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی ایک رات باہر تشریف لائے اور صحابہ کو چوبیس 24 رکعات نماز پڑہائی.
بعضوں نے چوبیس رکعات سے 4 فرض مراد لیا ہے اور بیس 20 تراویح. اس حدیث سے بہی سلفیوں کا گیارہ ہی رکعات کا دعوی باطل ثابت ہوا.
🌸جمہور علماء اہل سنت والجماعت کا مسلک 20 رکعات تراویح کا ہے اور اسی پر حضرات صحابہ کا عمل رہا ہے. اللہ تعالی ہم سب کو سنت صحیحہ کو سمجہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین_
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
اہل السنة والجماعة کے عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
جمعہ، 16 جون، 2017
جمعرات، 15 جون، 2017
تراویح اور ہم مسلمان(قسط 2)
🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃
تراویح اور ہم مسلمان
(قسط 2)
حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی مدظلہ
بیس رکعات تراویح کا انکار کرنے والوں کو غیر مقلد کہا جاتا ہے، اسلئے کہ وہ ائمہ مجتہدین امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کی تقلید کو ناجائز سمجہتے ہیں، لیکن وہ من مانی نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے علماء کی تقلید کرتے ہیں، جو لوگ بیس رکعات تراویح پڑہاتے ہیں، وہ اپنے کو مقلد حنفی یا شافعی کہتے ہیں، لیکن تراویح پڑہاتے ہیں غیر مقلد ہو کر، نہ شافعی طریقہ پرنماز پڑہاتے ہیں، نہ حنفی طریقہ پر نماز پڑہاتے ہیں، شافعی حافظ جب تراویح پڑہاتا ہے تو تکبیر تحریمہ کے بعد توجیہ یعنی وجہت پڑہنے کا موقع نہیں دیتا، سوال کرنے پر جواب دیتا ہے کہ تراویح سنت نماز ہے، اور سنت نماز میں دعا افتتاح پڑہنا ضروری نہیں ہے، کوئی کہتا ہے کہ حدیث میں دوسری دعا بہی وارد ہوئی ہیں، رکوع و سجدہ کے اذکار بہی تین مرتبہ پڑہنے کا موقع نہیں دیا جاتا، سوال کرنے پر جواب ملتا ہے کہ تراویح سنت نماز ہے، اسلئے ایک مرتبہ پڑہنا کافی ہے، تشہد میں کیا پڑہتے ہیں اللہ ہی کو معلوم، التحیات، درود شریف اور اس کے بعد کی دعا پڑہنے کا موقع ہی نہیں ملتا، گویا کہ حافظ قرآن مجتہد ہو کر تراویح پڑہاتا ہے، آج کل کی تراویح مظاہرہ قرآت معلوم ہوتی ہے، نہ کہ نماز، ایسی تراویح پڑہانے والوں کے لئے مشہور محدث وفقیہ امام نووی رحمہ اللہ تنبیہ نقل کی جا رہی ہے جس سے معلوم ہوگا کہ اس طرح کی تراویح پڑہانا صحیح نہیں ہے.
امام نووی رحمہ اللہ لکہتے ہیں
اعلم ان صلاة التراويح سنة باتفاق العلماء، وهى عشرون ركعة يسلم من كل ركعتين، وصفة نفس الصلاة كصفة باقى الصلوات على ما تقدم بيانه، ويجى فيها جميع الاذكار المتقدمة كدعاء الافتتاح، واستكمال الاذكار الباقية، واستيفاء التشهد، والدعاء بعده، وغير ذلك مما تقدم، وهذا وان كان ظاهرا معروفا فانما نبهت عليه لتساهل اكثر الناس فيه، وحذفهم اكثر الاذكار، والصواب ما سبق.
(الاذكار، باب أذكار صلاة التراويح)
ترجمہ: جان لو تراویح کی نماز کے سنت ہونے پر علماء کا اتفاق ہے اور وہ بیس رکعات ہیں، ہر دو رکعات کے بعد سلام پہیرا جائے گا، تراویح کی نماز فرض اور سنت نمازوں کی طرح ہی پڑہی جائے گی یعنی فرض اور سنت نمازوں کی طرح تمام اذکار پڑہے جائیں گے، مثلا دعا افتتاح(وجهت) اور تمام اذکار کا مکمل پڑہنا اور تشہد(التحيات) اور اس کے بعد دعا کا مکمل پڑہنا، یہ تمام چیزیں اگرچہ سب کو معلوم ہیں مگر اکثر لوگ تراویح میں اس کو نہیں پڑہتے، اسلئے میں نے تاکیدا لکہا ہے.
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
اہل السنة والجماعة کے عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
تراویح اور ہم مسلمان
(قسط 2)
حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی مدظلہ
بیس رکعات تراویح کا انکار کرنے والوں کو غیر مقلد کہا جاتا ہے، اسلئے کہ وہ ائمہ مجتہدین امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کی تقلید کو ناجائز سمجہتے ہیں، لیکن وہ من مانی نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے علماء کی تقلید کرتے ہیں، جو لوگ بیس رکعات تراویح پڑہاتے ہیں، وہ اپنے کو مقلد حنفی یا شافعی کہتے ہیں، لیکن تراویح پڑہاتے ہیں غیر مقلد ہو کر، نہ شافعی طریقہ پرنماز پڑہاتے ہیں، نہ حنفی طریقہ پر نماز پڑہاتے ہیں، شافعی حافظ جب تراویح پڑہاتا ہے تو تکبیر تحریمہ کے بعد توجیہ یعنی وجہت پڑہنے کا موقع نہیں دیتا، سوال کرنے پر جواب دیتا ہے کہ تراویح سنت نماز ہے، اور سنت نماز میں دعا افتتاح پڑہنا ضروری نہیں ہے، کوئی کہتا ہے کہ حدیث میں دوسری دعا بہی وارد ہوئی ہیں، رکوع و سجدہ کے اذکار بہی تین مرتبہ پڑہنے کا موقع نہیں دیا جاتا، سوال کرنے پر جواب ملتا ہے کہ تراویح سنت نماز ہے، اسلئے ایک مرتبہ پڑہنا کافی ہے، تشہد میں کیا پڑہتے ہیں اللہ ہی کو معلوم، التحیات، درود شریف اور اس کے بعد کی دعا پڑہنے کا موقع ہی نہیں ملتا، گویا کہ حافظ قرآن مجتہد ہو کر تراویح پڑہاتا ہے، آج کل کی تراویح مظاہرہ قرآت معلوم ہوتی ہے، نہ کہ نماز، ایسی تراویح پڑہانے والوں کے لئے مشہور محدث وفقیہ امام نووی رحمہ اللہ تنبیہ نقل کی جا رہی ہے جس سے معلوم ہوگا کہ اس طرح کی تراویح پڑہانا صحیح نہیں ہے.
امام نووی رحمہ اللہ لکہتے ہیں
اعلم ان صلاة التراويح سنة باتفاق العلماء، وهى عشرون ركعة يسلم من كل ركعتين، وصفة نفس الصلاة كصفة باقى الصلوات على ما تقدم بيانه، ويجى فيها جميع الاذكار المتقدمة كدعاء الافتتاح، واستكمال الاذكار الباقية، واستيفاء التشهد، والدعاء بعده، وغير ذلك مما تقدم، وهذا وان كان ظاهرا معروفا فانما نبهت عليه لتساهل اكثر الناس فيه، وحذفهم اكثر الاذكار، والصواب ما سبق.
(الاذكار، باب أذكار صلاة التراويح)
ترجمہ: جان لو تراویح کی نماز کے سنت ہونے پر علماء کا اتفاق ہے اور وہ بیس رکعات ہیں، ہر دو رکعات کے بعد سلام پہیرا جائے گا، تراویح کی نماز فرض اور سنت نمازوں کی طرح ہی پڑہی جائے گی یعنی فرض اور سنت نمازوں کی طرح تمام اذکار پڑہے جائیں گے، مثلا دعا افتتاح(وجهت) اور تمام اذکار کا مکمل پڑہنا اور تشہد(التحيات) اور اس کے بعد دعا کا مکمل پڑہنا، یہ تمام چیزیں اگرچہ سب کو معلوم ہیں مگر اکثر لوگ تراویح میں اس کو نہیں پڑہتے، اسلئے میں نے تاکیدا لکہا ہے.
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
اہل السنة والجماعة کے عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
آخری تراویح اور دعا
🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃
🍃🕌 *آخری تراویح اور دعا*🕌🍃
استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی (سابق مہتمم جامعہ اسلامیہ بہٹکل) لکہتے ہیں:
تراویح کے ختم پر مختلف مسجدوں میں مختلف طریقہ نظر آتے ہیں اور کئی دعائیں پڑہی جاتی ہیں. اولاً بیس رکعات کے ختم پر، پہر وتر کی دعاء قنوت میں اور وتر کے بعد پہر جلسہ کے بعد لمبی لمبی دعاوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، حالانکہ بیس رکعات کے بعد ترویحہ نہیں ہے. فورا وتر پڑھی جائے اور قنوت کو طویل کرنا مکروہ ہے. ان چار دعاوں کو سنت کے مطابق کہنا بہت مشکل ہے اس لئے صرف آخیر میں(وتر کے بعد) ایک دعا پر اکتفا کرنا بہتر ہے. ختم قرآن پر دعا کی فضیلت وارد ہوئی ہے.
*علامہ جلال الدین سیوطی رحمة الله علیہ متوفی 911 ہجری لکہتے ہیں:*
"يسن الدعاء عقب الختم لحديث الطبرانى وغيره ان العرباض بن سارية مرفوعا من ختم القرآن فله دعوة مستجابة وفى الشعب من حديث انس مرفوعا من قرا القرآن وحمد الرب وصلى على النبى صلى الله عليه وسلم واستغفر ربه فقد طلب الخيرة مكانه". (الاتقان)
*ترجمہ:*
ختم قرآن کے بعد دعا مسنون ہے طبرانی میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس شخص نے قرآن ختم کیا اس کی دعا مقبول ہوتی ہے اور شعب الایمان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس نے قرآن پڑہا اور اللہ کی تعریف کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بہیجا اور اپنے رب سے مغفرت چاہی تو وہ اپنے لئے خیر کا طلب گار ہوا.
حضرت ابن ابوداود بسند صحیح حضرت قتادہ(تابعی) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ(صحابی) جب قرآن ختم کرتے تو لوگوں کو جمع کرتے اور دعا کرتے.
(تراویح سنت کے مطابق پڑھیے ص : 110)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
اہل السنة والجماعة کے عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
فیس بک لنک یہ ہے
https://m.facebook.com/groups/109104373005047
ٹیل گرام لنک یہ ہے
https://telegram.me/ahlussunnahwaljamah
🍃🕌 *آخری تراویح اور دعا*🕌🍃
استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی (سابق مہتمم جامعہ اسلامیہ بہٹکل) لکہتے ہیں:
تراویح کے ختم پر مختلف مسجدوں میں مختلف طریقہ نظر آتے ہیں اور کئی دعائیں پڑہی جاتی ہیں. اولاً بیس رکعات کے ختم پر، پہر وتر کی دعاء قنوت میں اور وتر کے بعد پہر جلسہ کے بعد لمبی لمبی دعاوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، حالانکہ بیس رکعات کے بعد ترویحہ نہیں ہے. فورا وتر پڑھی جائے اور قنوت کو طویل کرنا مکروہ ہے. ان چار دعاوں کو سنت کے مطابق کہنا بہت مشکل ہے اس لئے صرف آخیر میں(وتر کے بعد) ایک دعا پر اکتفا کرنا بہتر ہے. ختم قرآن پر دعا کی فضیلت وارد ہوئی ہے.
*علامہ جلال الدین سیوطی رحمة الله علیہ متوفی 911 ہجری لکہتے ہیں:*
"يسن الدعاء عقب الختم لحديث الطبرانى وغيره ان العرباض بن سارية مرفوعا من ختم القرآن فله دعوة مستجابة وفى الشعب من حديث انس مرفوعا من قرا القرآن وحمد الرب وصلى على النبى صلى الله عليه وسلم واستغفر ربه فقد طلب الخيرة مكانه". (الاتقان)
*ترجمہ:*
ختم قرآن کے بعد دعا مسنون ہے طبرانی میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس شخص نے قرآن ختم کیا اس کی دعا مقبول ہوتی ہے اور شعب الایمان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس نے قرآن پڑہا اور اللہ کی تعریف کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بہیجا اور اپنے رب سے مغفرت چاہی تو وہ اپنے لئے خیر کا طلب گار ہوا.
حضرت ابن ابوداود بسند صحیح حضرت قتادہ(تابعی) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ(صحابی) جب قرآن ختم کرتے تو لوگوں کو جمع کرتے اور دعا کرتے.
(تراویح سنت کے مطابق پڑھیے ص : 110)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴
اہل السنة والجماعة کے عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com
فیس بک لنک یہ ہے
https://m.facebook.com/groups/109104373005047
ٹیل گرام لنک یہ ہے
https://telegram.me/ahlussunnahwaljamah
ہفتہ، 10 جون، 2017
جمعہ، 9 جون، 2017
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)



























