ننگے سر رہنا اور ننگے سر نماز پڑہنا بدعت ہے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ننگے سر رہنا اور ننگے سر نماز پڑہنا بدعت ہے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 1 اگست، 2017

کپڑا ہوتے ہوئے صرف ایک کپڑے میں نماز پڑہنا جس سے بدن کہلا رہے مکروہ وناپسندیدہ ہے

🍃اعوذ بالله من الشيطان الرجيم🍃

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

کپڑا ہوتے ہوئے ایک کپڑا میں نماز پڑہنا جس سے بدن کہلا رہے مکروہ اور ناپسندیدہ ہے

حدیث

عن ابى هريرة رضي الله عنه ان سائلا سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الصلاۃ فی ثوب واحد، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولکلکم ثوبان؟

(صحیح بخاری)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک کپڑے میں نماز پڑہنے کے متعلق سوال کیا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچہا کہ کیا تم لوگوں کے پاس دوسرا کپڑا نہیں ہے؟

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کپڑوں کی موجودگی میں صرف ایک کپڑے میں نماز پڑہنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا. اسلئے جن حضرات کے پاس ٹوپی وغیرہ موجود ہو تو ننگے سر، ننگے بدن نماز پڑہنا مکروہ ہوگا.

(ماخوذ کتاب نماز کا طریقہ احادیث کی روشنی میں، تالیف مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی)

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

پیر، 31 جولائی، 2017

سر اور جسم کہلا رکہ کر نماز پڑہنا منع ہے

🍃اعوذ بالله من الشيطان الرجيم🍃

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

سر اور جسم کہلا رکہ کر نماز پڑہنا منع ہے

حدیث

عن ابى هريرة رضى الله عنه قال قال النبى صلي الله عليه وسلم لا يصلين احدكم فى الثوب الواحد ليس على عاتقيه شىء.

(صحیح ابن خزیمۃ و صحیح بخاری)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز ایک کپڑے میں نماز نہ پڑہے جس سے کندہا کہلا رہے.

(ماخوذ کتاب نماز کا طریقہ احادیث کی روشنی میں، تالیف حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی دامت برکاتہم)

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/07/blog-post_46.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

ایک کپڑے میں نماز پڑہنے والے صحابہ بہی سر ڈہانپ کر نماز پڑہتے تہے

🍃اعوذ بالله من الشيطان الرجيم🍃

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

ایک کپڑے میں نماز پڑہنے والے بہی ننگے سر نماز نہیں پڑہتے تہے

حدیث

عن وائل بن حجر قال رايت النبى صلي الله عليه وسلم حين افتتح الصلاة رفع يديه حيال اذنيه قال ثم اتيتهم فرايتهم يرفعون ايديهم الى صدورهم فى افتتاح الصلاة وعليهم برانس واكسية.

(سنن ابى داود)

ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکہا کہ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتہوں کو کانوں تک اٹہاتے اور جب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آکر دیکہا تو وہ سینوں کے مقابل ہاتہوں کو اٹہارہے تہے اسلئے کے وہ سروں پر سے برانس (گرم ٹوپی یا گرم کپڑا جو سروں پر ڈالا جائے) اور چادر اوڑہے ہوئے تہے.

حدیث

عن وائل بن حجر رضى الله عنه قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه فرايتهم يرفعون ايديهم فى البرانس.

(صحيح ابن خزيمة)

ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتہ نماز پڑہی تو میں نے دیکہا کہ وہ برانس (گرم ٹوپی یا گرم کپڑا جو سروں پر ڈالا جائے) کے اندر ہی ہاتہ اٹہا رہے تہے.

ان دونوں حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نماز پڑہنے کا ذکر ہے اور راوی حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ خصوصی طور پر کمبل اور چادر اوڑہنے کا ذکر فرماتے ہیں. جو لوگ ایک کپڑے میں نماز پڑہنے والی حدیث سے ننگے سر نماز پڑہنے پر استدلال کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان احادیث میں کمبل اور چادر میں نماز پڑہنے والے بہی سر پر کمبل اور چادر اوڑہا کرتے تہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑہنے کی صورت میں بہی جسم کو ننگا رکہنے کی ممانعت فرمائی ہے.

(ماخوذ کتاب نماز کا طریقہ احادیث کی روشنی میں تالیف حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی)

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/07/blog-post_57.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

ہفتہ، 29 جولائی، 2017

ننگے سر نماز پڑہنا غیر اسلامی طریقہ ہے

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

ننگے سر نماز پڑہنا خلاف سنت ہے

استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی دامت برکاتہم (ناظم ادارہ رضیة الابرار بہٹکل وسابق مہتمم جامعہ اسلامیہ بہٹکل) لکہتے ہیں:

ننگے سر نماز پڑہنے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے. افسوس کہ کچہ لوگ ننگے سر نماز پڑہنے ہی کو سنت سمجہنے لگے ہیں اور اس کی تبلیغ بہی کرتے ہیں. یہ سراسر غلط اور گمراہی کی بات ہے کہ سنت رسول کو خلاف سنت کہا جا رہا ہے. سر پر عمامہ اور ٹوپی پہننا تمام انبیاء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ، صلحاء اور شرفاء کا طریقہ رہا ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اور غیر نماز ہر حال میں عمامہ اور ٹوپی پہنا کرتے تہے. لباس کے متعلق قرآن واحادیث میں مکمل تعلیمات موجود ہیں. اللہ تعالی نے مرد وعورت کے لئے شرمگاہ اور اس کے متصل حصہ کو چہپانے کا جہاں حکم فرمایا ہے وہاں اس سے بہی زائد کپڑا پہننے کی تلقین فرمائی ہے اور طواف وعبادت کے لئے زینت اختیار کرنے کا بہی حکم بہی فرمایا ہے مگر کسی غریب اور فقیر کے پاس کپٹرا ہی نہ ہو تو اس کو حسب استطاعت کپڑا پہن کر نماز پڑہنے کی اجازت ہے.

(تراویح سنت کے مطابق پڑہئے)

https://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/07/blog-post_96.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

جمعہ، 28 جولائی، 2017

ننگے سر نماز پڑپنا خلاف سنت ہے

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

ننگے سر نماز پڑہنا مکروہ ہے

سلفی عالم ناصر الدین البانی کا فتوی

لکہتے ہیں

ننگے سر نماز پڑہنا مکروہ ہے، ننگے سر رہنے کی عادت، ننگے سر راستوں میں چلنا اور عبادات کی جگہوں یعنی مسجدوں میں داخل ہونا، سلف صالحین کے عرف میں اچہی عادت نہیں سمجہی جاتی تہی، یہ غیر مسلموں کی عادت ہے  جو کفار اپنے فتوحات کے ساتہ لے کر آئے.

تمام المنة فى التعليق على فقه السنة

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/07/blog-post_28.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

منگل، 18 جولائی، 2017

ننگے سر رہنا شریف انسان کی نشانی نہیں ہے

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

ننگے سر رہنا خلاف مروت اور ننگے سر نماز پڑہنا خلاف سنت وبدعت ہے
-------------------------------

علماء اہل سنت والجماعت کے نزدیک ٹوپی پہننا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور ننگے سر نماز پڑہنا بدعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے خلاف ہے.

علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ لکہتے ہیں:

 ولا يخفى على عاقل ان كشف الراس مستقبح وفيه اسقاط مروء ة وترك ادب.

 (تلبيس ابليس)

علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ لکہتے ہیں:

وتکرہ الصلاة حاسرا راسه تذللا.

(البناية شرح الهداية)

علامہ زین الدین ملیباری شافعی لکہتے ہیں:

 وكره كشف راس ومنكب واضطباع ولو من فوق القميص.

 (فتح المعين)

مولانا عبد الحى لكهنوى لكهتے ہیں:

وقد ذكروا ان المستحب ان يصلى فى قميص وازار وعمامة ولا يكره الاكتفاء بالقلنسوة.

(عمدة الرعاية فى حل شرح الوقاية)

غير مقلد سلفى عالم ناصر الدین البانی اپنی کتاب تمام المنة میں ننگے سر نماز پڑہنے کو مکروہ لکہا ہے.

عام حالات میں ننگے سر نماز پڑنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے. اور بہترین طریقہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے. لہذا ہر مسلمان ٹوپی پہنے، ننگے سر رہنا بالخصوص ننگے سر نماز پڑہنا اچہی عادت نہیں ہے. لہذا اس بدعت سے اجتناب کرے.

 سعودی مفتیان لکہتے ہیں:

 ولم يثبت عن النبى صلى الله عليه وسلم انه صلى حاسرا عن راسه بل كان ملازما للبس العمامة وخير الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم.

 (فتاوى اللجنة الدائمة)

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/07/blog-post_78.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com