خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 4 اکتوبر، 2018

ملا مشتاق، انصار و شکیل کی والدہ خیر النساء مہا سائبین صاحبہ انتقال کر گئی

*ملا مشتاق، انصار و شکیل صاحبان کی والدہ خیر النساء مہا سائبین پیشمام 90 سال انتقال کر گئی، نماز جنازہ کل بروز جمعہ صبح 10:30 بجے جامع مسجد بھٹکل میں ادا کی جائے گی، اللہ تعالی مرحومہ کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت فردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین*

https://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com/2018/10/blog-post_4.html?m=1

جمعہ، 8 جون، 2018

بھٹکل کے مشہور و معروف عالم دین حضرت مولانا محمد غزالی خطیبی ندوی چل بسے


حضرت مولانا محمد غزالی ابن قاضی ابوبکر خطیبی چل بسے
                             بقلم محمد احمد ملپا

شہر بھٹکل کے مشہور و معروف عالم دین، صاحب نسبت بزرگ حضرت مولانا محمد غزالی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا آج مورخہ 23 رمضان المبارک 1439 مطابق 8 جون 2018 عیسوی صبح اذان فجر کے وقت انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، نماز جنازہ بعد نماز عصر جامع مسجد بھٹکل میں ادا کی جائے گی،

حضرت مولانا غزالی صاحب ندوی رحمۃ اللہ علیہ،سابق قاضی شہر بھٹکل حضرت قاضی ابوبکر خطیبی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند اور سابق قاضی شہر بھٹکل حضرت قاضی محمد احمد خطیبی رحمۃ اللہ علیہ کے  بھائی اور نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالرب صاحب کے عم محترم، استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو مولانا عبدالسلام خطیب ندوی اور مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی خطیب جامع مسجد بھٹکل کے ماموں اور استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو مولانا ابوبکر صدیق خطیب ندوی کے والد ماجد ہیں،  انجمن ہائی اسکول بھٹکل میں میٹرک تک تعلیم  حاصل کیں، پھر جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں داخلہ لیا، جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں حضرت مولانا عبدلحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس 7 سالہ نصاب 4 سال میں مکمل کیا،
 جامعہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء میں درجہ عالمیت میں داخلہ لیا، تعلیم سے فراغت کے بعد آپ دعوت تبلیغ سے منسلک ہوئے، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی اولین شوری کے رکن منتخب ہوئے، چونکہ کہ آپ کا خاندان کئی بشتوں سے جامع مسجد بھٹکل کی خطابت کے فرائض انجام دے رہا تھا، آپ کے والد، دادا، پردادا سب جامع مسجد بھٹکل کے خطیب رہے، بھٹکل کے دینی وعلمی خاندان میں آپ پیدا ہوئے، خاندانی شرافت پہلے ہی سے تھی، اپنے والد ماجد حضرت قاضی ابوبکر خطیبی رحمۃ اللہ علیہ سے استفادہ کیا، جو اپنے زمانہ کے صاحب نسبت بزرگ تھے، بھٹکل کے دیگر مشائخ سے بھی عقیدت ومحبت کا تعلق رکھا، بانی جامعہ حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بھی عقیدت رہی، جب بھی مرکز نظام الدین دہلی سے بھٹکل تشریف لاتے تو ضرور حضرت کی ملاقات کے لئے تشریف لاتے، بھٹکل کے صاحب نسبت بزرگ حضرت مولانا محمد اسماعل اکرمی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی استفادہ فرمایا، آپ سے فقہ شافعی کی تعلیم بھی حاصل کی، ہندوستان کے دیگر اکابر سے بھی استفادہ کیا خصوصا حضرت مولانا عبدالباری ندوی لکھنوی خلیفہ حضرت تھانوی، حضرت مولانا یعقوب صاحب مجددی بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے  استفادہ کیا، بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ آپ کو مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت وخلافت حاصل تھی،
 45 سال سے مرکز نظام الدین دہلی ہی میں مقیم تھے، لیکن اپنے کو نمایاں کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی، تواضع و اخلاص کے آپ پیکر تھے، رمضان سے قبل بھٹکل تشریف لائے، پیروں میں سوجن کی وجہ سے گھر ہی میں تھے، یہی مرض مرض الوفات ثابت ہوا، آپ کی پیدائش 1944 عیسوی کو ہوئی، عیسوی حساب سے آپ کی عمر 74 سال اور ہجری حساب آپ کی عمر 77 سال تھی، اللہ تعالی آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت فردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین ثم آمین

ہفتہ، 14 اپریل، 2018

دارالعلوم دیوبند(وقف) کے صدر مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کا انتقال

دارالعلوم دیوبند وقف کے صدر مہتمم وآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کا ابھی کچھ دیر قبل انتقال ہوگیا ہے، اللہ تعالی حضرت مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے اور، امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے اور آپ کو جنت فردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

جمعہ، 23 فروری، 2018

مجمع الامام الشافعى العالمى کا قیام

*کل ہند فقہ شافعی مشاورتی نشست*

*مجمع الامام الشافعی العالمی کا قیام*

*کنڈلور 5 جمادی الثانی 1439 ہجری مطابق 22 فروری 2018 عیسوی بروز جمعرات جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور کے تحت ایک سمینار منعقد کیا گیا، جس میں ہندوستان کے مختلف ریاستوں سے علماء ومفتیان شریک ہوئے، یہ اجلاس ضیاء ایجوکیشنل ٹرسٹ کنڈلور کے زیر اہتمام منعقد ہوا، بھٹکل سے  حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی ملپا صاحب(بانی وناظم ادارہ رضیۃ الابرار بھٹکل، وسابق مہتمم ونائب ناظم جامعہ اسلامیہ بھٹکل) ، حضرت مولانا محمد ایوب برماور ندوی(بانی وصدر احیاء المدارس بھٹکل)، مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی(قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل، واستاذ جامعہ اسلامیہ بھٹکل) وغیرہم شریک ہوئے،گنگولی سے مولانا عبدالسبحان ناخدا ندوی شریک ہوئے،مہاراسٹرا سے مفتی نذیر احمد کرجیکر، مفتی قاضی حسین ماہمکر، مفتی فرید ہرنیکر، مفتی اشفاق قاضی، مفتی رضوان صاحب، مولانا صادق روحا، مولانا قاضی شافعی، مفتی فرقان کلیان، کیرلا سےمفتی امین ماہے،مفتی طارق ،مفتی محمد احمد، تملناڈسے مفتی مالک میران، حیدرآباد سے مفتی عمر ملاحی وغیرہم نے شرکت فرمائی، جلسہ کی صدارت حضرت مولانا محمد ایوب برماور ندوی نے فرمائی، سب سے پہلے حافظ سعود صاحب نے تلاوت قرآن سے جلسہ کا آغاز فرمایا، پہر نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاضرین محظوظ ہوئے، مفتی عبدالکریم گنگولی ندوی نے استقبالیہ خطاب کیا،اس کے بعد مولانا خواجہ الدین اکرمی ندوی نے فرمایا بھٹکل کا نظام قضاہ صدیوں سے چلا آرہا ہے، جب عرب ہجرت کرکے یہاں آئے تواس وقت سے قضاۃ کا نظام چلاآرہا ہے، بھٹکل کے اندر انظامی اعتبار سے دو دارالقضاہ اور دو محکمہ شرعیہ ہے، ایک محکمہ شرعیہ جماعت المسلمین سے متعلق ہے، جہاں کے قاضی مولانا اقبال ملاندوی ہیں، اور نائبین عبدالعظیم قاضیا اور مولانا عبدالرب صاحب ہیں، دوسرا محکمہ شرعیہ مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل سے متعلق ہے، چند سالوں سے بندہ کو قضائت کی ذمہ داری دی گئی ہے، اور نائب قاضی مولوی ایمن صاحب ندوی ہیں، مسلمانان بھٹکل اپنے مسائل طلاق، خلع، فسخ نکاح، وراثت وغیرہ کےلئے دونوں محکمہ شرعیہ اور دارالقضاۃ کی طرف رجوع کرتے ہیں، ہمارے یہاں سرکاری عدالت سے رجوع کرنے کا تصور ہی نہیں ہے، یہاں پر علماء کرام موجود ہیں، جدید پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کےلئے علماء کرام بیٹھ کر اتفاق رائے کی جائے، یہ بہت ہی اچہا قدم ہے، میں حضرت مولانا عبیداللہ صاحب کو مبارک باد دیتا ہوں، فقہ کے اندر بہت گہرائی ہے، ہرزمانہ میں پیش آنے والے مسائل کا حل اس میں موجود ہے، مولانا عبدالسبحان ندوی نے کہا کہ فقہ جوڑنے کے لئے ہے، توڑنے کے لئے نہیں، امام شافعی نے دوفقہ کو جوڑا، آپ امام مالک اور امام محمد جو امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیں، دونوں سے علم حاصل کیا*

*مفتی امین ماہے(کیرالہ) نے فرمایا کہ ہم ہمارے سنی بھائیوں کو بھی ساتھ میں لیکر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے یہ لوگ خانقاہی ہوتے ہیں جو اچھے ہوتے ہیں صرف ان کی زرا رہنمائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے*

*مفتی عمر ملاحی حیدرآباد نے فرمایا کہ موجودہ دور میں نئے مسائل پر کام کرنے کی انتہائی ضرورت ہے آئے دن نئے نئے مسائل کا انبار بنتے جارہا ہے جس کو حل کرکے امت کی رہنمائی کرنا ہمارا اہم فریضہ ہے، اس تعلق سے فقہاء احناف میں بہت ہی زیادہ کام ہوا ہے اور ہو رہے ہیں، چند دنوں پہلے حیدرآباد میں ہی کچھ مشورہ تھا اس میں بندہ کا جانا ہوا تھا وہاں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب تھے، مولانا نے بھی فقہ شافعی میں نئے مسائل کے حل کی طرف اشارہ فرمایا*

*مفتی فیاض احمد برمارے نے مفتی رفیق پورکر صاحب، مولانا عبدالسلام خطیب بھٹکلی اور مفتی مدثر مقادم کا خط پڑھ کر سنایا،مفتی مالک میران نے فقہ شافعی پر کام کرنے کی ضرورت اور جدید مسائل میں فتاوی نہ ہونے کا اظہار کیا، اور فرمایا کہ ہمارے بعض ایسے شوافع علاقے بھی ہیں جہاں احناف کا فتوی دیا جاتا ہے*

*آخر میں ہم سب کے سرپرست حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی ملپا دامت برکاتہم نے چند قیمتی نصیحت سےنوازا، آپ نے فرمایا کسی بھی مسئلہ کو صحابہ، تابعین اور جمہور علماء کے مسلک کی روشنی میں تحقیق کریں،تحقیق کے نام پر کسی حدیث سے خود سے استدلال نہ کرلیں، اقوال تو کتابوں میں بہت لکہا ہے، مگر صحیح اور جمہور کے مسلک کے مطابق فتوی دینے کی کوشش کریں، آج کل کچھ لوگ چند احادیث کی کتابیں پڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کو خلاف سنت سمجھتے ہیں*

*مولانا عبیداللہ صاحب ندوی کے کلیدی خطاب کے بعد حضرت مولانا ایوب صاحب ندوی کا صدارتی خطاب ہوا، مولانا نے فرمایا کہ حیدر آباد وغیرہ شوافع کی کثیر تعداد موجود ہے مگر شوافع کے مسلک پر نہیں، ان کا عمل احناف کے مسئلہ پر ہے، عصر کی اذان بھی احناف کے مطابق تاخیر سے دی جاتی ہے، اس سلسلہ میں علماء کو کام کرنا ہوگا، عمل کتاب کے مطابق کرنا ہوگا*

*اس نشست کے اختتام میں مجمع الامام الشافعی العالمی کے نام سے ایک ادارہ کا قیام عمل میں آیا*

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2018/02/blog-post_23.html?m=1