روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے سفر کرنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے سفر کرنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 6 اگست، 2017

زیارت قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

زيارت قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تحقیق

عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من زار قبرى وجبت له شفاعتى.

رواہ ابوطاہر الاصبہانی

تحقیق الالبانی:

موضوع

(صحیح وضعيف الجامع الصغير)

تحقيق الجمهور:

قال العلامة ابن الملقن الشافعى

وهذا اسناد جيد

(البدر المنير)

قال العلامة ابن حجر الهيتمى:

صححه جماعة كعبد الحق والتقى السبكى.

(حاشية العلامة ابن حجر الهيتمى على شرح الايضاح فى مناسك الحج)

قال الملا على القارى:

صححه جماعة من ائمة الحديث.

(شرح الشفا)

وقال النيموى:

اسناده حسن.

(آثار السنن)

قال الاستاذ تقى الدين الندوى:

اخرجه الدارقطنى وابن خزيمة وسنده حسن.

(حاشية موطا امام محمد)

قال المحدث محمود سعيد ممدوح الشافعى المصرى:

وهذا الاسناد حسن.

(رفع المنارة لتخريج احاديث التوسل والزيارة)

لہذا سلفی محدث ناصر الدین البانی صاحب کا اس حدیث کو موضوع کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے. جمہور کی تحقیق کے مقابلہ میں البانی صاحب کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے.

https://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/08/blog-post_6.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

بدھ، 26 جولائی، 2017

تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی زیارت کی نیت سے سفر نہ کریں

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی زیارت کی نیت سے سفر نہ کریں

حديث لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام ومسجدى هذا ومسجد الاقصى

حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ لکہتے ہیں

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان تین مساجد کے سوا دنیا کی تمام مساجد فضیلت کے اعتبار سے برابر ہیں لہذا حصول ثواب اور فضیلت کے لئے ان مساجد کے سوا کسی اور مسجد میں نماز پڑہنے کی غرض سے رخت سفر باندہنا بے فائدہ ہے.

زیارت قبور کے لئے سفر کی شرعی حثیت:

پہر حدیث مذکور کی بناء پر بعض حضرات نے زیارت قبور کے لئے سفر کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے. اس مسلک کو سب سے پہلے قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ نے اختیار کیا، پہر ان کے بعد علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس میں انتہائی تشدد اور غلو اختیار کیا اور اس کی خاطر بہت سی مصیبتیں بہی اٹہائیں. یہاں تک کہ انہوں نے روضہ اطہر تک کی زیارت کے لئے بہی سفر کو ناجائز قرار دیا اور فرمایا کہ اگر مسجد نبوی میں نماز پڑہنے کی نیت سے سفر کیا جائے اور پہر ضمنا روضہ اطہر کی بہی زیارت کر لی جائے تو اس کی اجازت ہے لیکن خاص روضہ اطہر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا جائز نہیں.

لیکن جمہور نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس مسلک کو قبول نہیں کیا اور اس کی تردید کی بلکہ علامہ تقی الدین سبکی رحمہ اللہ نے تو شفاء السقام کے نام سے ان کی تردید میں ایک مفصل کتاب بہی لکہی ہے.

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا استدلال حدیث باب سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ حدیث باب میں استثناء مفرغ ہے لہذا یہاں مستثنی منہ محذوف ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے لا تشد الرحال الى شىء الا الى ثلاثة مساجد لہذا حصول برکت اور حصول ثواب کے لئے سفر کرنا ان تین مساجد کے ساتہ مخصوص ہے اور کسی قبر کے لئے سفر کرنا اس حدیث کی وجہ سے ممنوع ہوگا.

اس کا جواب میں جمہور یہ کہتے ہیں کہ استثناء تو بے شک مفرغ ہے لیکن تقدیر عبارت یوں نہیں ہے کہ لا تشد الرحال الى شىء الا الى ثلاثة مساجد کیونکہ اس ےتقدیر پر تو سفر جہاد، سفر طلب علم، سفر تجارت اور کسی عالم کی زیارت کے لئے بہی سفر کرنا ممنوع قرار پائے گا جبکہ اس کا کوئی قائل نہیں، لہذا تقدیر عبارت در اصل یوں ہے لا تشد الرحال الى مسجد الا الى ثلاثة مساجد اور مقصد یہ ہے کہ ان تین مساجد کے سوا کسی اور مسجد کی طرف اس نیت سے سفر کرنا درست نہیں کہ اس میں زیادہ فضیلت یا ثواب حاصل ہوگا اور یہ تقدیر اس لحاظ سے بہی انسب ہی کہ استثناء مفرغ میں جب مستثنی منہ محذوف نکالا جاتا ہے اس کو مستثنی کے ساتہ کچہ مناسبت ضرور ہونی چاہئے اور ہم نے جو مستثنی منہ محذوف نکالا ہے وہ مستثنی کے عین مناسب ہے پہر اس کی تائید مسند احمد کی روایت سے بہی ہوتی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں لا ينبغى للمعطى ان يشد رحاله الى مسجد ينبغى فيه الصلاة غير المسجد الحرام والمسجد الاقصى ومسجدى هذا چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدة القارى میں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں جمہور کے مسلک پر اسی روایت سے استدلال کیا ہے.

درس ترمذی از مولانا تقی عثمانی

https://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/07/blog-post_26.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

منگل، 25 جولائی، 2017

زیارۃ سید المرسلین رحمۃ للعالمین

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

زیارة سيد المرسلين رحمة للعالمين

حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے داماد وشاگرد حضرت مولانا سید احمد رضا بجنوری قاسمی رحمہ اللہ لکہتے ہیں:

سرور کائنات سید رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بالاجماع اعظم قربات وافضل طاعات ہے اور ترقی درجات وحصول مقاصد کے لئے تمام اسباب ووسائل سے بڑا وسیلہ ہے

بعض علماء نے اہل وسعت کے لئے اس کو قریب واجب کے لکہا ہے. درمختار میں ہے کہ زیارت قبر شریف مندوب ہے بلکہ اس کو اہل وسعت کے لئے واجب کہا گیا ہے. محقق ابن ہمام رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سفر مدینہ کے وقت صرف قبر نبوی کی نیت کرنی چاہئے پہر جب مسجد نبوی میں داخل ہوگا تو اس کو اس کی زیارت بہی حاصل ہو ہی جائے گی کیونکہ اس خالص نیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم واجلال زیادہ ہے اور اسی کی تائید حدیث نبوی سے بہی ہوتی ہے جس میں ہے کہ جو شخص میری زیارت کے لئے آئے گا جبکہ اس کی نیت بجز میری زیارت کے کسی دوسرے مقصد کے لئے نہ ہوگی تو مجہ پر لازم ہوگا کہ قیامت کے دن اس کے لئے شفاعت کروں. نیز حضرت عارف ملا جامی رحمہ اللہ سے نقل ہوا ہے کہ وہ حج کے علاوہ بہی صرف زیارت قبر نبوی کے لئے سفر کرتے تہے تاکہ ان کا مقصد سفر کوئی دوسری غرض نہ ہو. فتح الملہم. اور خود حضور علیہ السلام نے اس کی ترغیب دی ہے اور باوجود قدرت ووسعت کے زیارة قبر نبوی نہ کرنے والوں کو ظالم وبے مروت فرمایا ہے.

لہذا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس دولت وشرف سے نوازا جائے اور بدبخت ہے وہ شخص جو باوجود قدرت ووسعت کے اس نعمت عظمی سے محروم رہے.
---------------------------------
انوار الباری
----------------------------------
اجماعی مسائل اور جمہور کا مسلک جاننے کے لئے انوار الباری شرح صحیح البخاری اردو اہل علم وعوام دونوں کے تحفہ ہے. حضرت علامہ انور شاہ کشمیری محدث دیوبند کے درس کو اس کے شاگرد وداماد ہی نے قلم بند کیا ہے. اردو میں یہ کتاب ایک عظیم نعمت ہے.

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com/2017/07/blog-post_25.html?m=1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com

بدھ، 12 جولائی، 2017

روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے سفر کرنا جمہور علماء اہل السنہ والجماعہ کے نزدیک جائز ہے

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

*روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے سفر کرنا*

 روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے کئے سفر کرنا جمہور علماء اہل سنت والجماعت کے نزدیک سنت ہے اور بعض علماء کے نزدیک واجب ہے. یہ مسئلہ حنفی اور علماء دیوبند کا نہیں ہے. بلکہ اجماعی مسئلہ ہے. چاروں مسلک حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کی فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ لکہا ہوا ہے.

البتہ علامہ ابن تیمیہ اس مسئلہ میں متفرد ہیں.

 علامہ تقی الدین سبکی شافعی ان کے رد میں مفصل کتاب لکہی ہے جس کا نام شفاء السقام فى زيارة خير الانام.

علامہ ابن حجر ہیتمی مکی شافعی بہی اس موضوع پر ایک کتاب لکہی ہے جس کا نام ہے الجوهر المنظم فى زيارة القبر الشريف النبوى المكرم.

 علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمہ اللہ لکہتے ہیں

 وهى من ابشع المسائل المنقولة عن ابن تيمية.

(فتح البارى)

جمہور علماء کا مسلک:

علامہ ابن بطال مالکی (متوفی449ہجری) لکہتے ہیں:

والامة مجمعة على زيارة قبر الرسول وابى بكر وعمر ولا يجوز على الاجماع الخطا.

( شرح صحيح البخارى)

علامہ ابوالحسن ماوردی شافعی (متوفی 450) لکہتے ہیں:

فاما زیارة قبر النبى صلى الله عليه وسلم فمامور بها ومندوب اليها.

(الحاوى الكبير)

علامہ محفوظ حنبلی(متوفی 510 ہجری) لکہتے ہیں:

 واذا فرغ من الحج استحب له زيارة قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وقبر صاحبيه رضى الله عنهما.

(الهداية على مذهب الامام احمد)

امام قاضى عياض مالكى (متوفی 544 هجرى) لکہتے ہیں:

 وزیارة قبره صلى الله عليه وسلم سنة من سنن المسلمين مجمع عليها وفضيلة مرغب فيها.

(الشفا بتعریف حقوق المصطفی)

امام نووی شافعی(متوفی 676) لکہتے ہیں:

اذا انصرف الحجاج والمعتمرون من مکة فليتوجهوا الى مدينة رسول الله صلى الله عليه وسلم لزيارة تربته صلى الله عليه وسلم فانها من اهم القربات وانجح المساعى.

(شرح الايضاح فى مناسك الحج)

علامہ ابن ہمام حنفی(م 861ہجری) لکہتے ہیں:

 والاولی فیما یقع عند العبد الضعیف تجرید النیة لزيارة قبر النبى صلى الله عليه وسلم ثم اذا حصل له اذا قدم زيارة المسجد.

(فتح القدير)

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 جو شخص بہی حج کو جائے وہ قبر شریف کو مقصد بنا کر مدینہ منورہ حاضر ہو، مسجد کی حاضری تو جدا گانہ عبادت وطاعت ہے. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی نیت سے سفر کرے.

(خطبات حکیم الاسلام)
http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.in/2017/07/blog-post_12.html?m=1
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🌴🌴 *اہل السنة والجماعة چینل اداره رضية الابرار بہٹکل، کرناٹک، ہند* 🌴🌴

اہل السنة والجماعة کے صحیح عقائد ومسلک جاننے اور اہل السنة والجماعة کی کتابیں پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لئے کلک کریں

http://raziyatulabrarbhatkal.blogspot.com