حضرت مولانا محمد غزالی ابن قاضی ابوبکر خطیبی چل بسے
بقلم محمد احمد ملپا
شہر بھٹکل کے مشہور و معروف عالم دین، صاحب نسبت بزرگ حضرت مولانا محمد غزالی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا آج مورخہ 23 رمضان المبارک 1439 مطابق 8 جون 2018 عیسوی صبح اذان فجر کے وقت انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، نماز جنازہ بعد نماز عصر جامع مسجد بھٹکل میں ادا کی جائے گی،
حضرت مولانا غزالی صاحب ندوی رحمۃ اللہ علیہ،سابق قاضی شہر بھٹکل حضرت قاضی ابوبکر خطیبی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند اور سابق قاضی شہر بھٹکل حضرت قاضی محمد احمد خطیبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھائی اور نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالرب صاحب کے عم محترم، استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو مولانا عبدالسلام خطیب ندوی اور مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی خطیب جامع مسجد بھٹکل کے ماموں اور استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو مولانا ابوبکر صدیق خطیب ندوی کے والد ماجد ہیں، انجمن ہائی اسکول بھٹکل میں میٹرک تک تعلیم حاصل کیں، پھر جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں داخلہ لیا، جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں حضرت مولانا عبدلحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس 7 سالہ نصاب 4 سال میں مکمل کیا،
جامعہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء میں درجہ عالمیت میں داخلہ لیا، تعلیم سے فراغت کے بعد آپ دعوت تبلیغ سے منسلک ہوئے، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی اولین شوری کے رکن منتخب ہوئے، چونکہ کہ آپ کا خاندان کئی بشتوں سے جامع مسجد بھٹکل کی خطابت کے فرائض انجام دے رہا تھا، آپ کے والد، دادا، پردادا سب جامع مسجد بھٹکل کے خطیب رہے، بھٹکل کے دینی وعلمی خاندان میں آپ پیدا ہوئے، خاندانی شرافت پہلے ہی سے تھی، اپنے والد ماجد حضرت قاضی ابوبکر خطیبی رحمۃ اللہ علیہ سے استفادہ کیا، جو اپنے زمانہ کے صاحب نسبت بزرگ تھے، بھٹکل کے دیگر مشائخ سے بھی عقیدت ومحبت کا تعلق رکھا، بانی جامعہ حضرت ڈاکٹر علی ملپا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بھی عقیدت رہی، جب بھی مرکز نظام الدین دہلی سے بھٹکل تشریف لاتے تو ضرور حضرت کی ملاقات کے لئے تشریف لاتے، بھٹکل کے صاحب نسبت بزرگ حضرت مولانا محمد اسماعل اکرمی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی استفادہ فرمایا، آپ سے فقہ شافعی کی تعلیم بھی حاصل کی، ہندوستان کے دیگر اکابر سے بھی استفادہ کیا خصوصا حضرت مولانا عبدالباری ندوی لکھنوی خلیفہ حضرت تھانوی، حضرت مولانا یعقوب صاحب مجددی بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے استفادہ کیا، بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ آپ کو مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت وخلافت حاصل تھی،
45 سال سے مرکز نظام الدین دہلی ہی میں مقیم تھے، لیکن اپنے کو نمایاں کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی، تواضع و اخلاص کے آپ پیکر تھے، رمضان سے قبل بھٹکل تشریف لائے، پیروں میں سوجن کی وجہ سے گھر ہی میں تھے، یہی مرض مرض الوفات ثابت ہوا، آپ کی پیدائش 1944 عیسوی کو ہوئی، عیسوی حساب سے آپ کی عمر 74 سال اور ہجری حساب آپ کی عمر 77 سال تھی، اللہ تعالی آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت فردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین ثم آمین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں